الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی اکاؤنٹس کی خود جانچ پڑتال کا فیصلہ

اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہےکہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی تفصیلات کا خود جائزہ لے سکتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کی سماعت کی جس میں تحریک انصاف کی جانب سے وکیل ثقلین حیدر اور درخواست گزار اکبر ایس بابر کی طرف سے وکیل احمد حسن پیش ہوئے۔ گزشتہ سماعت پر پی ٹی آئی کی جانب سے جو دستاویزات جمع کرائی گئیں آج اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کی تفصیلات کا خود جائزہ لے سکتا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کے پارٹَی فنڈز سے متعلق اکبر ایس بابر کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار اکبر ایس بابر کی جانب سے وکیل احمد حسن جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے ثقلین حیدر ایڈووکیٹ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ درخواستگزار کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اکاونٹس کی مکمل تفصیلات الیکشن کمیشن میں پیش نہیں کیں، پی ٹی آئی کے اکاونٹس میں رقم کہاں سے آئی مکمل ریکارڈ نہیں دیا گیا، امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک سے جو فنڈز اکٹھے کئے گئے ان کا ریکارڈ بھی نہیں دیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے ریمارکس دیے کہ ہم پی ٹی آئی کے اکاونٹس کی تفصیلات کا جائزہ لے سکتے ہیں، پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن اکاونٹس کا جائزہ لے، مگر درخواستگزار کو تفصیلات نہ دی جائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ پانچ دسمبر کو پارٹی فنڈنگ کیس کی سماعت کرے گا، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم تک اکاونٹس کی تفصیلات کسی کو فراہم نہیں کریں گے۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس کی سماعت اکیس نومبر تک ملتوی کردی۔ الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا یہ موقف کہ دستاویزات اکبر ایس بابر کو نہ دی جایئں یہ چور کی ڈاڑھی میں تنکا کا ثبوت ہے، جو ثبوت سپریم کورٹ میں جمع کروائے ہیں وہ جعلسازی ہے، بہت بڑی جعلسازی کی گئی ہے، میں سپریم کورٹ کے سامنے ثبوت رکھنے کو تیار ہوں کہ تمام دستاویزات جھوٹی ہیں، کمپنیوں کے ریکارڈ کو ٹیمپر کیا جا رہا ہے، اپنی کمپنیوں کے ریکارڈ کو عمران خان ٹیمپر کررہا ہے، امریکہ کے سفیر کو بھی خط لکھ رہا ہوں کہ امریکہ میں پی ٹی آئی کی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تحقیقات ایف بی ار کرے۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ شوکت خانم کے ڈونرکو بھی پی ٹی آئی کے ڈونر کے طور پر پیش کیا گیا ہے، پی ٹی آئی کی جمع کروائی گئی تفصیلات میں کوئی منی ٹریل موجود نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں