ہاتھ دھوکر پیچھے پڑنے کا عالمی دن مبارک ھو

(ضیاء اللہ محسن کی وال سے انتخاب) آج پوری دنیا میں دن منایا جارہے ہیں۔ نابینا افراد کا دن، دیہاتی عورت کا دن اور صابن سے ہاتھ دھونے کا دن۔ میرے خیال میں وہ وقت بہت قریب ہے جب سال کے 365 دن ہوں گے۔ ایک ایک دن میں دس دس چیزوں کا دن منایا جائے گا۔ آج کا دن بھی اس بات کی گواہی ہے۔لیکن کیا “منانے” سے شعور آجاتا؟ کم از کم ہمارے نیم خواندہ معاشرے میں اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کی صرف ایک مثال دیتا ہوں۔

آج سے چھ سال قبل دوران تعلیم ایک پراجیکٹ کے لیے چکوال کلرکہار کا سفر کرنا پڑا۔ کچھ دن گزارنے کے بعد طبیعت انتہائی مکدر ہوئی. کھانے کے وقت کوئی آدمی ہاتھ دھونے کی زحمت ہی نہیں کرتا تھا۔ ان پڑھ تو ان پڑھ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی اس معاملے میں جاہلیت کا ثبوت دیتے نظر آئے۔ میری نشاندہی پہ بھی کچھ نہ ہوا بلکہ اُلٹا مجھے مذاق کا نشانہ بننا پڑا۔ صرف یہی نہیں، لاہور، سیالکوٹ فیصل آباد جہاں جہاں کسی پراجیکٹ میں جانے کا اتفاق ہوا، صورتِ حال یہی دیکھی۔ سیالکوٹ میں ایک بار دوپہر کے کھانے میں پانی دستیاب نہ تھا۔ پراجیکٹ ویران جگہ پر تھا اور پانی کے کین ختم ہوچکے تھے۔سردی تھی مگر پانی پینے کے لیے بھی دستیاب نہ تھا۔ ہاتھ دھونے کے لیے پانی کی تلاش میں بڑی کوشش کی مگر ناکام رہا سو آلودہ ہاتھوں کھانے سے انکار کردیا۔ اس بات پر خوب پھبتیاں کَسی گئیں۔

بساط بھر کوشش یہی رہی کہ ہر دوطریقوں سے دوستوں کو قائل کروں کہ چلو تمھیں اپنی صحت کا خیال نہیں تو اس عمل کو سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر ہی اپنا لو۔ مگر جب پڑھے لکھے جاہل بھی کام کرتے کرتے ہاتھ جھاڑ کر منہ پھاڑ کر پیٹ کی فکر میں لگ جائیں تو دماغ کی کون سنتا۔ سبھی دل پسندی کا ثبوت دیتے ہیں اور دل۔۔۔یہ تو ہے ہی سدا کا پاگل۔۔ آپ سب کو ہاتھ دھوکر پیچھے پڑنے کا عالمی دن مبارک ھو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ہاتھ دھوکر پیچھے پڑنے کا عالمی دن مبارک ھو” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں