سائلین کی آسانی کیلئے جدید ٹیکنالوجی لا رہے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

لاہور : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ منصور علی شاہ نے کہا کہ خواتین کو عدالتی شعبے میں مشکلات کا سامنا ہے ،سائلین کی آسانی کےلئے جدیدٹیکنالوجی لارہے ہیں ،ہماری کوشش ہے شفاف عدالتی نظام قائم کریں،ویمن ججز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ اس شعبے میں خواتین کی مشکلات کا احساس ہے،ہائیکورٹ میں کیس مینجمنٹ کی کوشش کی ،خواتین سے متعلق مقدمات میں کیس مینجمنٹ سے مدد ملتی ہے،ایک دو اقدامات سے خواتین کے مسائل کا حل ممکن نہیں تھا جس کیلئے سہولت سینٹر کا آغاز کر دیا ،یہ سہولت سینٹر عوام کیلئے بنائے گئے ہیں ،شہریوں کو کیسزسے متعلق آن لائن معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔انہوں‌ نے کہا کہ ماتحت عدالتوں کے 36 ضلعی ججوں سے تفصیلی بات کی جس میں ججوں کے مسائل کا ہر ممکن جائزہ لیا گیا.
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے سے رابطے کئے بغیر عدلیہ میں بہتری ممکن نہیں تھا،ضلعی سطحی پرججوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پرحل کررہے ہیں،سیشن ججز اب براہ راست مسائل پر بات کرتے ہیں،شفاف،بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے،چیف جسٹس لاہو رہائیکورٹ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کو ملکر آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا،سیشن ججز کو عدلیہ کا اہم حصہ ہونے کا احساس دلایا ہے ،آج کے سیشن کا مقصد خواتین ججز کے مسائل حل کرنا ہے خواتین ججز سے درخواست ہے وہ مسائل سے آگاہ کریں ،پہلے ججز کا خیال رکھنا ہے پھر دیگر مسائل پر توجہ دینی ہے۔ منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ پنجاب کی عدالتوں میں 12لاکھ کیسز زیر سماعت ہیں جبکہ 4 ماہ میں 5 ہزار سے زائد ریفرنس دائر کئے گئے،2 ہزار سے زائد ریفرنسز نمٹا دیئے گئے،ان کا کہنا تھا کہ لاہورہائیکورٹ میں سپیشل بنچز قائم کئے گئے ہیںاورکامیابی سے اہداف حاصل کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں