پاک سرزمین پر کسی مشترکہ آپریشن کی گنجائش نہیں، میجر جنرل آصف غفور

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر کسی مشترکہ آپریشن کی گنجائش نہیں ہے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان نے 15 سال میں ملکی سیکیورٹی کے لیے بہت اقدامات کیے ہیں، اب ملک میں کوئی نوگو ایریا نہیں ہے جب کہ اب ہمارے پاس ڈومور کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ایک آپریشن کیا جس پرامریکا سے ہمیں انٹیلی جنس معلومات آئیں، چار بجکر دس منٹ پر ہمارےپاس انفارمیشن آئی، امریکی سفیر کا ہمارےساتھ رابطہ ہوا، انہوں نے ہم سے مدد مانگی۔

آصف غفور نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس پرکرم ایجنسی میں کارروائی کی گئی، ہمارےفوجی اہلکاروں نےگاڑیوں کوالگ کیا، ہماری ترجیح تھی کہ یرغمالیوں کو بحفاظت نکال لیا جائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ جہاں یہ لوگ پہنچے وہاں قریب افغان مہاجرکیمپ بھی تھا، شروع سے کہہ رہے ہیں کہ افغان مہاجرین کا واپس جانا ضروری ہے، اگر آپ کے پاس کچھ دستاویزات ہیں اور آپ مہاجرین کے کیمپ میں چلے جائیں تو دہشت گرد کی شناخت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے اعتبار سے امریکا کے ساتھ رابطہ رہتا ہے، آرمی چیف کے گزشتہ دنوں میں اہم رابطے ہوئے اور آگے بھی ہوں گے، سیکیورٹی رابطہ ہونا چاہیے کیونکہ افغانستان میں آئی ایس ایف کی جنگ پاکستان کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی تھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھنا پڑے گا، امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعاون جاری تھا اور آگے بھی رہے گا جس میں بہتری آئے گی۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف کے پاکستان میں مشترکہ آپریشن سے متعلق صحافی کے سوال پر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مشترکہ آپریشن دو ملکوں کے درمیان ہوتا ہے جس میں دونوں ملکوں کی فوجیں ہوتی ہیں لیکن پاکستان کی سرزمین پر کسی مشترکہ آپریشن کی کوئی گنجائش ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں