اداروں‌ کے ٹکراؤں‌ سے خطرات دیکھ رہا ہوں، خورشید شاہ

سکھر: اپوزیشن رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ سپہ سالار کو بھی حق ہے کہ معیشت پربات کرے جب کہ اداروں کا ٹکراؤ ریاست کیلئے خطرہ ہے۔ سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سیاست عبادت کا نام ہے، سیاستدان کوشش کرے کہ لوگوں کے مسائل ختم نہ سہی کم تو کرے، سکھر میں نظر آتا ہے کہ کام ہوئے ہیں ، ووٹ کی لالچ میں کام کرنے والا مخلص نہیں ہوتا ہے اورجمہوریت چلتی رہی تو پاکستان20 سال میں خوشحال ہوجائے گا۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ختم نبوت کا مسئلہ پیپلزپارٹی کی حکومت 1973 کےآئین میں ڈال کرحل کرچکی ہے، خدا کے واسطےختم نبوت کےمعاملےکو نہ چھیڑیں، کیپٹن صفدر نے خواہ مخواہ معاملے کو الجھایا اور علما اور سیاستدانوں سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ تول کر بات کریں اگر بات کرنا نہیں آتی تو مت کریں۔ احتساب عدالت میں ہنگامے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت میں ہنگامے کا واقعہ معمولی نہیں تھا، گالم گلوچ اور الزام تراشیوں کی سیاست کی مذمت کرنی چاہیئے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ہمیں آنکھیں چاہیں کہ ہم دیکھ سکیں ہم کس طرف جا رہے ہیں، معیشت سے متعلق بولنے سےنہیں روکنا چاہیے، پاکستان کے ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ پاکستان کی معیشت پر بات کرے، اسی طرح سپہ سالار کو بھی حق ہے کہ معیشت پربات کرے، آرمی چیف کومعیشت کےمعاملے پرغلط فہمی ہے تو حکومت دورکرے، حکومت کو چاہیئے کہ انہیں معیشت پربریفنگ دے، اداروں کا ٹکراؤ ریاست کیلئے خطرہ ہے، اللہ رحم کرے میں بہت کچھ دیکھ رہا ہوں جب کہ پی پی کی بھر پور کوشش ہے کہ اداروں میں ٹکراؤ نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں