پاکستان میں نظام تعلیم کا بیڑا غرق کرنے والے مجرم بے نقاب

مزاح کے باوا آدم مشتاق احمد یوسفی نے لکھا تھا کہ، سائنس کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی پاکستان میں لوگ تعویز گنڈوں کے ساتھ کینسر جیسے موزی امراض کا علاج کرانے سے باز نہیں آتے۔ ان امراض کے علاج کیلئے نام نہاد پیروں اور فقیروں کے درباروں پر مریضوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہر وقت نظر آتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ مہلک امراض کا علاج تعویز گنڈوں سے کراتے ہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ انہیں ان تعویز گنڈوں سے آرام بھی آجاتا ہے۔
اس کالم کو ویڈیو فارمٹ میں‌ دیکھیں:

یہ سب کیا ہے؟ یہ ہمارے مجموعی معاشرتی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تو اس کا علاج صحیح خطوط پر کرانے کی بجائے پیروں کے ڈیروں کا چکر لگاتے پائے جاتے ہیں۔ وہاں سے شفا نہ ملے توعطائی اور نام نہاد معالجین کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ دو نمبر پیروں اور عطائی ڈاکٹروں کا ایک ہی طریقہ واردات ہے۔ دو نمبر پیر مریض کو تعویزوں کا اچھا خاصہ پلندہ تھما کر انہیں دن کے مختلف اوقات میں استعمال کرنے کی ہدایت کردیتا ہے۔ اسی طرح عطائی ڈاکٹر کے پاس کوئی مریض چلا جائے تو وہ اسے گولیوں اور کیپسولوں کا ۔۔تھبّا۔۔ تھما کر صبح، دوپہر ، شام استعمال کرنے کی ہدایت کردیتا ہے۔ مرض کوئی بھی ہو وہ گولیوں کا ۔۔تھبّا۔۔ تبدیل نہیں ہوتا۔ ہر مرض کے علاج کیلئے بس ایک ہی نسخہ کہ بیک وقت پندرہ قسم کی گولیاں اور کیپسول مریض کو دیدی جائیں۔ عطائیوں کا ۔۔ڈاکٹرائن۔۔ دراصل یہ ہوتا ہے کہ گولیوں کے اس پلندے میں سے مطلوبہ گولی یا کیپسول خود ہی اپنے مرض کو تلاش کرے گی اور مرض کا خاتمہ کردے گے،لیکن باقی چودہ گولیاں اور کیپسول مریض کی صحت پر کیا خوفناک اثرات مرتب کریں گے اس کا اندازہ ناں عطائی کو ہوتا ہے اور ناں ہی اس عطائی سے علاج کرانے والا مریض اس کی سنگینی سے باخبر ہوتا ہے۔ اس کا پتہ تب چلتا ہے جب ہلکے سے بخار میں مبتلا ہونے والا بعد ازاں ٹائیفائیڈ ، ہیپا ٹائی ٹیس اور کینسر وغیرہ میں مبتلا ہوکر اس دنیا سے ہی روٹھ کر چلا جاتا ہے۔

اب یہ پاکستان کا المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ عطائیوں نے پاکستان میں کوئی شعبہ نہیں چھوڑا۔ وہ جس بھی شعبے میں داخل ہوئے، پھر نکلنے کا نام نہیں لیا۔ حد تو یہ ہے کہ انکی دست برد سے تعلیم کا شعبہ بھی نہیں بچا۔ تعلیم کے شعبے کو دیکھ لیں، عطائیوں نے اس کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ پاکستانی طالب علم کو اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے مناسب اور درست نصاب بھی میسر نہیں۔ گزشتہ ستر برسوں میں یہ قوم اپنے لئے اور اپنے کل کے معماروں کیلئے کسی درست اور صحیح راستے کا تعین بھی نہیں کرسکی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قوم آج بھی اندھیری گلیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارتی پھر رہی ہے۔ یہ قوم آج بھی تاریک راستوں کی مسافر ہے۔ یہ قوم آج بھی زمانہ قدیم کے گورکھ دھندے حل کرنے میں الجھی ہوئی ہے۔ اس درماندہ قوم کا مقدر ایسا کیوں ہے؟ جواب ہے تعلیمی بے راہ روی اور عطائی نظام تعلیم۔

جی ہاں ۔۔ یہ تعلیمی بے راہ روی نہیں تو اور کیا ہے کہ کبھی ایک نصاب تو کبھی دوسرا نصاب، کبھی انتہائی مذہبی نصاب تعلیم تو کبھی انتہا درجے کا سیکولر نصاب تعلیم ۔۔ کبھی 60ء کی دہائی میں ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ نصاب تو کبھی 21 ویں صدی کے پہلے عشرے میں پسماندہ اقوام سے بھی ۔۔گیا گزرا۔۔ نصاب تعلیم ۔۔ اس پر بھی مستزاد یہ کہ ہر مکتبہ فکر کیلئے مختلف نصاب، ہر صوبے کیلئے الگ نصاب اور معاشی استطاعت کے مطابق متنوع نصاب ۔۔ کہیں درس نظامی اور کہیں آکسفورڈ ۔۔ کہیں ملک کی اٹھانوے فیصد آبادی کیلئے کلرک پیدا کرنے والا انتہائی گھٹیا نصاب اور کہیں اشرافیہ کو آداب حکمرانی سکھانے والا اعلیٰ درجے کا نصاب ۔۔ کہیں دس دس روپے کے چندے سے چلنے والے مدارس اور کہیں کروڑوں روپے کے فنڈز پر پلنے والے سکول ۔۔ کہیں ٹاٹ بِچھے ۔۔کھوتی سکول۔۔ اور کہیں جھولوں، باغات اور صوفوں سے مزین مونٹیسوری اور گرائمرسکول ۔۔ پاکستان میں اتنے ترقیاتی منصوبے مکمل نہیں ہوئے جتنے نصاب تعلیم تبدیل ہوچکے لیکن جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ کوئی سا بھی نصاب ہو، وہ تعلیمی عطائیوں کی دست برد سے محفوظ نہیں۔ سب نصابوں کی بنیادی تشکیل ایک ہی فارمولے پر کی گئی ہے۔

جس طرح عطائی حکیم اور عطائی ڈاکٹر مریضوں کو گولیوں کا ۔۔تھبّا۔۔ تھما دیتے ہیں بالکل اسی طرح نصاب تیار کرنے والوں نے علم کے پیاسوں کو کتابوں اور مختلف مضامین کا ۔۔تھبّا۔۔ تھما دیا۔ اور اس میں کسی نے بھی تخصیص نہیں برتی۔ کسی نے بھی اس بات کا جائزہ نہیں لیا کہ بیالوجی کا ریاضی، فزکس کا بیالوجی، اور کیمسٹری کا ریاضی کے ساتھ کیا تعلق بنتا ہے؟ کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ اسلامیات، عربی اور قرآنی تعلیمات کے نام پر ایک ہی مضمون کو تین مختلف مضامین میں تقسیم کرکے طالب علم پر بوجھ میں اضافہ کرنے کا کیا فائدہ ہوا ؟ کسی نے نہیں سوچا کہ انگلش، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کو لازمی قرار دینے کے باوجود یہی مضامین اختیاری بنانے کی بھی کیا ضرورت تھی؟ میٹرک تک دس، انٹرمیڈیٹ تک نو اور گریجو ایشن تک سات مضامین پڑھا کر آخر قوم کی کون سی خدمت کی جارہی ہے ؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ گریجوایشن میں سات کے بعد پوسٹ گریجوایشن میں یکدم ایک مضمون۔۔ ساتویں منزل سے زمین پر گرنے والا سکون محسوس کرے گا یا جان ہاتھ سے گنوا بیٹھے گا؟ جس طرح عطائی ڈاکٹر سمجھتا ہے کہ ۔۔تھبّا۔۔ گولیوں میں متعلقہ گولی خود ہی بیماری ڈھونڈ لے گی۔ وہی کام ہمارے ۔۔ماہرین تعلیم۔۔ نے کیا ۔ ان کی سوچ تھی کہ ۔۔تھبّا۔۔ کتابوں میں سے کوئی نہ کوئی کتاب تو پڑھنے والے پر اثر کرے گی۔ لیکن کسی نے یہ سوچنے کا تردد نہیں کیا کہ ان ڈھیروں مضامین کے ہنگام میں پڑھنے والا اپنا دماغی توازن کیسے برقرار رکھ سکے گا ؟ ستر برسوں میں یہ دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی کہ بستے کے بوجھ میں اضافے سے طالب علم کا دماغ کیسے ہلکا پھلکا ہوسکتا ہے؟ ستر برسوں میں اس ملک میں تعلیمی شعبے میں ۔۔اپٹی چیوڈ۔۔ ٹیسٹ کی بنیاد ہی نہیں ڈالی گئی۔ کسی نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ بچوں کا رجحان اور ذہنی میلان کس طرف ہے اور ہمارے نصاب تعلیم کا قبلہ کس طرف ہے؟ ہر ماں اپنے بیٹی کو ڈاکٹر اور ہر باپ اپنے بیٹے کوانجینئر بنانا چاہتا ہے۔ میٹرک میں سائنس مضامین کے ساتھ جس نے بھی فرسٹ ڈویژن حاصل کرلی، ذہنی میلان جانچے بغیر والدین اسے ڈاکٹر اور انجینئر بنانے پر تل گئے۔ اس کے بعد وہی کچھ ہونا تھا جو ہمارے نظام تعلیم کے ساتھ ہوا۔ اس عطائی نظام تعلیم نے عطائی ڈاکٹر، عطائی انجینئر، عطائی استاد، عطائی سائنسدان، عطائی سیاستدان، عطائی حکمران حتیٰ کہ عطائی عوام پیدا کیے۔

قارئین کرام، اس وقت تک تعلیم کے شعبے میں بہتری نہیں آسکتی جب تک اس عطائی نظام تعلیم سے جان چھڑاکرملک میں ۔۔پروڈکٹیو۔۔ اور یکساں نصاب تعلیم رائج نہیں جاتا اس ملک میں حقیقی جمہوریت، شخصی آزادی، مکمل انصاف اور پائیدار امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ نصاب تعلیم کو طالب علم اور تعلیمی ادارے کے درمیان قانونی معاہدہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر یہ قانونی معاہدہ ہی غیر قانونی بنیادوں پر طے پائے تو کروڑوں حقائق یاد رکنے والا بھی ان پڑھ ہی رہتا ہے۔ تعلیم محض کروڑوں حقائق یاد رکھنے کا نام نہیں بلکہ جو بھولنے کے بعد باقی بچ جائے وہی تعلیم ہے۔ ہمارے نام نہاد بزرجمہروں کو بھی یہ حقیقت سمجھنا ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں