عمران خان نااہلی کیس کا فیصلہ کیا ہوگا، فواد چوہدری نے بڑا دعویٰ‌ کر دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کے حوالے سے کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے جبکہ عمران خان کی نااہلی کے حوالے سے کیس کی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد اب پورے پاکستان کی نظریں ان دونوں کیسز کے فیصلوں پر لگی ہوئی ہیں۔ ان کیسز کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے ایسا دعویٰ کیا ہے جسے سن کر سب حیران رہ گئے ہیں۔ فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین نا اہلی کیسز اگلے ہفتے تک ردی کی ٹوکری میں ہوں گے۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کبھی کسی عوامی عہدے پر نہیں رہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے 40 سال کے اثاثوں کا ایک ایک روپے کا حساب دیا۔ عمران خان نے تمام منی ٹریل سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے ، اگلے ہفتے تک عمران خان اور جہانگیر ترین نا اہلی کیسز کا فیصلہ آجائے گا اور دونوں ہی ردی کی ٹوکری میں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتی ہے ، یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف کی نا اہلی کی صورت ریاست کو کوئی خطرہ ہے کیپٹن صفدر کی اسمبلی میں تقریر پاکستان کے جھنڈے کے سفید حصے پر حملہ تھا، ایسی باتوں کا واحد مقصد پاکستان میں افراتفری پھیلانا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ایک ایسے شخص کو وزیر خزانہ رکھا گیا ہے جو پاکستان کی معیشت کو تنزلی کی طرف لے جا رہا ہے، نئے چیئرمین نیب کا نواز شریف کے کیسز کی خود نگرانی کرنے کا وعدہ خوش آئند ہے، حسین اور حسن نواز کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی جلد مکمل کی جائے تاکہ یہ کیس آگے بڑھ سکے۔ فواد چوہدری نے ایک بار پھر قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چلانے کیلئے مضبوط سیاسی حکومت کا ہونا ضروری ہے اور اس کیلئے جتنی جلدی ہو سکے انتخابات کرائے جائیں۔ فواد چوہدری کی گفتگو سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں سیاسی تبدیلیوں کے لیے فضا پیدا کی جارہی تاکہ عام لوگوں کا رد عمل چیک کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں