الیکشن کمیشن نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی درخواست خارج کردی

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے بعد الیکشن کمیشن نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی درخواست خارج کردی. اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ وزارت داخلہ کے اعتراضات سنجیدہ نوعیت کے ہیں پہلے انہیں‌دور کیا جائے. سماعت کے دوران ملی مسلم لیگ کے وکیل راجا عبدالرحمان ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کے تمام قانونی تقاضے پورے کئے اور ہمارے کسی پارٹی عہدیدار کا کالعدم تنظیم سے تعلق نہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ملی مسلم لیگ سے متعلق وزارت داخلہ کا خط آپ کے علم میں ہے جس پر وکیل نے کہا کہ خط میں کہا گیا کہ اس جماعت کی رجسٹریشن سے سیاست میں تشدد کا عنصر آسکتا ہے اور ہمیں وزارت داخلہ کے خط میں استعمال کی گئی زبان پر اعتراض ہے۔

اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ وزارت داخلہ کے خط سے تو لگتا ہے آپ کی جماعت کا تعلق کالعدم جماعت سے ہے۔ وکیل نے کہا کہ وزارت داخلہ نے شواہد کے بغیر ایک جواب دے دیا ہے، کیا اب ہر سیاسی جماعت کو وزارت داخلہ سے کلیئرنس لینا ہوگی اور کیا الیکشن کمیشن وزارت داخلہ کی سفارش پر عملدرآمد کرنے کا پابند ہے۔ اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ آپ وفاقی حکومت سے رجوع کیوں نہیں کرتے جس پر وکیل نے کہا کہ کس قانون کے تحت ہم وفاقی حکومت سے رجوع کریں، الیکشن کمیشن جماعت کی رجسٹریشن کے لئے وزارت سے رائے لینے کا پابند نہیں۔

وکیل نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن پر فیصلہ کرے جب کہ دلائل مکمل ہونے کے لئے الیکشن کمیشن نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے متعلق فیصلہ سنایا۔ خیال رہے کہ 7 اگست کو ملی مسلم لیگ کے نام سے سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا گیا تھا جب کہ الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ سے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کے لئے این او سی طلب کیا تھا۔ دوسری جانب وزارت داخلہ نے ملی مسلم لیگ کو رجسٹرڈ نہ کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر نئی جماعت کو رجسٹرڈ نہ کرنے کی سفارش کی تھی۔ خط کے مطابق وزارت داخلہ نے ملی مسلم لیگ کو رجسٹرڈ نہ کرنے کا فیصلہ وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس ایجنسیز کی سفارشات پر کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں