چارج سنبھالنے کے بعد چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا پہلا انٹرویو

اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے چارج سنبھالنے کے بعد پہلے انٹرویو کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ چیئرمین نیب انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں ایک نجی ٹی وی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی صرف چارج سنبھالا ہے کوئی بریفنگ نہیں لی۔ آئندہ ایک دو روز میں بریفنگ لوں گا اور اپنے کام کا باقاعدہ آغاز کروں گا۔ چیئرمین نیب سے لاپتا افراد کمیشن کی سربراہی سے متعلق سوال کیا گیا جس پر انہوں نے کہا کہ فی الحال لاپتا افراد کمیشن کی سربراہی نہیں چھوڑ رہا، لاپتا افراد کمیشن میں 3 سال بہت محنت کی ہے، اس کی رپورٹ حتمی مرحلے میں ہے، اب اس رپورٹ کو انجام تک پہنچا کر ہی کمیشن کی سربراہی چھوڑوں گا اور پھر پوری توجہ نیب پر ہوگی۔

اسامہ بن لادن کمیشن سے متعلق پوچھے گئے سوال پر چیئرمین نیب نے کہا کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کمیشن کا نتیجہ نکال کر دے دیا تھا اب حکام کا کام ہے اس پر کام کریں۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ انہیں کام میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی اور ایمانداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے۔ جاوید اقبال نے مزید کہا کہ قانون کے مطابق کام کرتے ہوئے اپنی بہترین قابلیت کو بروئے کار لائیں گے اور انشاءاللہ نیب کیسز کا بھی نتیجہ نکلے گا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کی تقرری 4 سال کے لئے کی گئی ہے جب کہ اس حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید کے درمیان مشاورت کے بعد انہیں اس عہدے کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ چیئرمین نیب کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی نے جسٹس (ر) فقیر محمد کھوکھر، جسٹس (ر) جاوید اقبال اور سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کے نام تجویز کیے تھے۔ جب کہ حکومت نے جسٹس (ر) رحمت جعفری، جسٹس (ر) چوہدری اعجاز اور ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان کا نام دیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شعیب سڈل، جسٹس (ر) فلک شیر اور ارباب شہزاد کے نام سامنے آئے تھے۔ تاہم چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ چیرمین نیب کے معاملے پر ہماری کوئی مشاورت شامل نہیں اور اگر جاوید اقبال بھی قمر زمان چوہدری ثابت ہوئے تو بڑا رد عمل سامنے آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں