جنرل رضوان اختر کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ، نئی بحث شروع

راولپنڈی: صدر نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے ذاتی وجوہات کی بنا پر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے پاک فوج سے قبل از قت ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری ریٹائرمنٹ پر متعلق مفروضوں سے گریز کیا جائے، ذاتی وجوہات کی بنا پر 9 اکتوبر کو یونیفارم اتار رہا ہوں۔ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کا کہنا ہے کہ جب بھی پاک فوج کو ضرورت ہوگی میں حاضر ہوں تاہم فی الحال آرام کروں گا اور فیملی کو وقت دوں گا۔
لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے ایک نجی میڈیا گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا استعفی منظور کرلیا گیا ہے، میں فی الحال آرام کروں گا اور فیملی کو ٹائم دوں گا اور جب بھی پاک فوج کو ضرورت ہوگی میں حاضر ہوں، مستقبل میں کون سی فیلڈ جوائن کروں گا فی الحال کہہ نہیں سکتا۔
لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی قبل از ریٹائرمنٹ کے حوالے سے ملکی میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے اور تجزیہ کار اس ریٹائرمنٹ کے پیچھے کسی پوشیدہ کہانی کی کا کھوج لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس اہم معاملے پر ڈھکے چھپے انداز میں بحث شروع ہوئی تو کسی نے اسے سول ملٹری تعلقات سے جوڑنے کی کوشش کی تو کسی نے اسے جنرل رضوان اختر کے بھائی پر کرپشن کے مبینہ الزامات کا نتیجہ قرار دیا۔ کچھ لوگ اسے نواز شریف فیملی کے جاری احتساب کے عمل سے بھی جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ میڈیا پر لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی شخصیت اصول پسندی اور بالخصوص کراچی میں تعیناتی کے دورران احسن کارکردگی کو بھی بھرپور طریقے سے سراہا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں