کہیں‌کم، کہیں‌ زیادہ ٹیکس، حقیقت کیا ہے؟ جہانگیر ترین عدالتی کٹہرے میں‌

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو کم اورایف بی آر کو زیادہ رقم بتائی گئی ،جاننا چاہتے ہیں الیکشن کمیشن کو آمدن کم کیوں ظاہر کی گئی،کہیں زیادہ آمدن بتاکرکالادھن توسفیدنہیں کیاگیا؟ جس پر جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر مہمندنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اور الیکشن کمیشن میں تفصیلات میں فرق پر27 مئی کو نوٹس دیا گیا،جہانگیرترین کے خلاف ایسے ہی شکوک و شبہات پیدا کئے گئے۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہانگیرترین 3سال وفاقی وزیررہے،پاکستان میں زرعی ٹیکس کم لوگ اداکرتے ہیں اورکئی وزرااپنی کمائی کوبعدمیں قانونی شکل دے دیتے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین کے الیکشن کمیشن میں جمع گوشواروں کی تفصیل میں فرق ہے۔ اس پر وکیل سکندر بشیر مہمند نے کہا کہ جہانگیر ترین نے فارم غلط بھرا کیوں کہ جگہ نہیں تھی، اسے غلط نہ سمجھا جائے، یہ معاملہ پاناما سے بالکل مختلف ہے ،پاناما آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس تھا، جہانگیر ترین سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے رکن اسمبلی ہیں۔ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ لیز پر لی گئی اراضی ظاہر نہ کی گئی اثاثہ ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ ہم یہاں کسی کی ٹیکس ادائیگی سے متعلق حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہ رہے، ثبوت کیا ہیں کہ آپ کی زرعی اراضی کتنی ہے اور آمدن کتنی ہے،آپ ہمیں جمع بندی، خسرہ بندی اور اس سے متعلق تمام ریکارڈ دیں۔
عدالت نے جہانگیرترین سے مزید ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں