حکومت کا ختم نبوت بارے حلف نامہ پہلے والی حالت میں‌ لانے کا اعلان

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تمام سیاسی جماعتوں‌کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد اعلان کیا ہے کہ ختم نبوت بارے حلف نامہ پہلے والی پوزیشن میں‌لانے کیلئے قانون کی شق میں‌ دوبارہ ترمیم کی جائے گی. سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں‌ نے کہا کی کاغذات نامزدگی میں‌ کو پہلے والی پوزیشن پر لایا جائے گا اور اس میں‌ جو لفظی غلطی ہوئی ہے اسے دور کر دیا جائے گا. اس حوالے سے قانون سازی فی الفور کی جائے گی اور آئندہ ایک دو روز میں‌ قومی اسمبلی سے شق کی منظور کے بعد کاغذات نامزدگی کا حلف نامہ پہلے والی پوزیشن پر بحال کر دیا جائے گا. اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور دیگر رہنمائوں‌ نے بھی خطاب کیا اور انہوں‌ نے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اس پر سیاست نہیں‌ ہونی چاہئے اور جو بھی غلطی ہوئی اس کا فوری ازالہ کیا جائے گا. واضح رہے کہ اس معاملے پر ملک بھر میں‌ احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور گزشتہ روز سنی اتحاد کونسل کے زیر اہتمام جامعہ رضویہ میں منعقدہ 30 اہلسنت جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے انتخابی اصلاحات بل میں الیکشن امیدوار کے حلف نامے میں ختم نبوت والی شق میں تبدیلی ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے۔ حکومت کی قادیانیت نوازی سامنے آ گئی ہے۔ حلف نامے کے پرانے الفاظ بحال ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔ حلف نامے میں ”میں صدق دل سے قسم اٹھاتا ہوں “ کو ختم کر کے ” میں اقرار کرتا ہوں “ میں تبدیل کرنا حکومتی بدنیتی ہے۔ اہلسنت جماعتیں حکومت کے اس اقدام کے خلاف جمعہ 6 اکتوبر کو ملک گیر ”یوم احتجاج “ منائیں گی۔ اہلسنت جماعتیں حکومت کو الٹی میٹم دیتی ہیں پرانا حلف نامہ بحال نہ ہوا تو حکومت کے خلاف تحریک ختم نبوت شروع کر دی جائے گی۔ اہلسنت جماعتوں کا مشترکہ اجلاس جامعہ رضویہ میں چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا کی زیرصدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں جماعت اہلسنت، مرکزی جمعیت علماءپاکستان، نیشنل مشائخ کونسل، انجمن طلباءاسلام، پاکستان فلاح پارٹی، مصطفائی تحریک، تنظیم المساجد پاکستان، تنظیم اتحاد امت، تحفظ ناموس رسالت محاذ، شیران اسلام، سنی علماء بورڈ، جانثاران ختم نبوت، تحریک فروغ اسلام، سنی یوتھ ونگ، انجمن خدام الاولیاء، انجمن طلباءمدارس عربیہ، سنی تنظیم القراء، مرکزی مجلس چشتیہ، انجمن فدایان مصطفے، سنی جانثار، تحریک نفاذ فقہ حنفیہ، بزم محدث اعظم، آل پاکستان علماءو مشائخ کونسل، تحریک فروغ فکر رضا، غوثیہ مشن انٹرنیشل، سنی فائونڈیشن اور دوسری جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضا نے کہا حکومت نے الیکشن ریفارمز کی آڑ میں ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ یہ اقدام حکومت کا سیاہ کارنامہ ہے۔ اجلاس سے مفتی اقبال چشتی‘ نعمان الجبار‘ امانت علی زیب‘ مفتی محمد حبیب قادری، بیرسٹر حسین رضا، پیر میاں غلام مصطفے، مفتی مقیم خان، مولانا محمد اکبر نقشبندی، علامہ حامد سرفراز، پیر معاذ المصطفے قادری، مولانا محمد علی نقشبندی، علامہ عبداللہ ثاقب، علامہ ارشد جاوید مصطفائی، سید جواد الحسن کاظمی، مفتی وسیم رضا، صاحبزادہ عمار سعید سلیمانی، صاحبزادہ حسن رضا، رائو حسیب احمد، حاجی رانا شرافت علی قادری نے بھی خطاب کیا۔تحریک حرمت رسول ، جماعت الدعوة اور المحمدیہ سٹوڈنٹس نے ارکان اسمبلی کے حلف نامہ میں ترمیم پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ملک بھر کی دینی، سیاسی و سماجی تنظیموں کو ساتھ ملا کر ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا اور کہا جمعہ کو اس سلسلہ میں پورے ملک میں احتجاج کیا جائے گا۔تحریک حرمت رسول کے چیئرمین مولانا امیر حمزہ، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، فرید احمد پراچہ، حافظ عاکف سعید، سیف اللہ خالد، محمد یعقوب شیخ، محمد خاں لغاری، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، عبدالرﺅف فاروقی، اعجاز چوہدری، حافظ عبد الغفار روپڑی، سید کفیل شاہ بخاری اور راشدعلی نے کہاکہ ارکان اسمبلی کیلئے حلف نامہ میں ترمیم حرمت رسول اور ختم نبوت کیخلاف بہت بڑا جرم ہے۔

تحریک لبیک یا رسول اللہکے مرکزی سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا ” انتخابی اصلاحات بل “کے نام پر ایمان اور پاکستان پر بہت بڑا حملہ کیا گیا ہے۔ 7 اکتوبر کو کوئٹہ بلوچستان میں تاریخ ساز لبیک یا رسول اللہ کانفرنس منعقد کریں گے اور10 اکتوبر کو لاہور میں تمام تنظیمات اہلسنت اور سرکردہ علماءو مشائخ کی اے پی سی طلب کر لی ہے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیراہتمام مرکز ختم نبوت نیو مسلم ٹاﺅن لاہور میں ایک ہنگامی اجلاس مولانا قاری جمیل الرحمن اخترکی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمن ثانی، پیر رضوان نفیس، مولانا عبدالشکور حقانی، مولانا سید ضیا ءالحسن شاہ، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا مجیب الرحمن انقلابی، مولانا عبدالعزیز، مبلغ ختم نبوت لاہور مولانا عبدالنعیم، مولانا عبدالشکور یوسف، قاری محمد اقبال، قاری معاویہ محمود مکی، مولانا محمد یعقوب فیض ، مولانا محمد احسن، قاری ظہورالحق، علامہ ممتاز اعوان، مولانا قاسم گجر سمیت کئی علماءاور کارکنان نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا جلد ہی لاہور میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی جا رہی ہے اور جمعہ کو اس سلسلے میں یوم احتجاج منایا جائے گا۔ ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے انتخابی اصلاحات بل کی منظوری اور نوازشریف کے پارٹی صدر منتخب ہونے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ایک نااہل شخص کو پارٹی کا سربراہ بنانے کیلئے انتخابی اصلاحات بل منظور کیا گیا۔ ارکان اسمبلی کے حلف نامہ میں ختم نبوت کے حوالہ سے ترمیم کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔ آن لائن کے مطابق جماعت اہلسنت پاکستان کے مرکزی امیر علامہ پیر سید مظہر سعید کاظمی اور مرکزی ناظم اعلیٰ علامہ پیر سید ریاض حسین شاہ نے اعلان کیا ہے انتخابی اصلاحات بل میں امیدوار کے ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کے خلاف جمعہ 6 اکتوبر کو ملک گیر ”یوم احتجاج“ منایا جائے گا۔ تحریک لبیک یارسول اللہ نے تحفظ ختم نبوت کے حق میں لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کی قیادت ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے کی۔ جماعت اسلامی نے انتخابی اصلاحات بل اور ختم نبوت کے حوالے سے حلف ختم کر نے کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کر دیا ہے اور اس سلسلے میں دینی جماعتوں اور قانون ماہرین کا اجلاس پانچ اکتوبر کو منصورہ میں طلب کر لیا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے رکن پارلیمنٹ صاحبزادہ طارق اللہ ، نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم ، امیر جماعت اسلامی سندھ اسد اللہ بھٹو سمیت دیگر رہنماﺅں کے ہمراہ میاں محمد اسلم کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا مسلم لیگ (ن)نے قومی اسمبلی میں مصنوعی اکثریت کے بل بوتے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو بلڈوز کیا ہے ایک نا اہل شخص کو پارٹی کاسربراہ بنانا بدترین واقعہ ہے۔

گوجرانوالہ میں ترمیم کے خلاف سنی تحریک کے زیراہتمام ایمن آبادی گیٹ شیرانوالہ باغ سے پرانے ریلوے سٹیشن تک ریلی نکالی گئی جس کی قیادت سنی تحریک کے ضلعی صدر قاری محمد بوٹا جٹ و دیگر علماءو مشائخ نے کی جبکہ سنی تحریک کے زیراہتمام سید صادق علی شاہ ضلعی صدر کی قیادت میں بھی ریلی نکالی گئی۔ سنی اتحاد کونسل کے زیراہتمام عالم چوک حافظ آباد روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ‘ ڈویڑنل صدر اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا غیراسلامی قانون کو فوری ختم کیا جائے۔ شیخوپورہ میں ترمیم کے خلاف سنی تحریک کے زیراہتمام پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت سنی تحریک کے رہنما محمد وسیم نقشبندی و دیگر نے کی جبکہ مرکزی انجمن تاجران ضلع شیخوپورہ کے ہنگامی اجلاس میں 73 سے زائد تاجر تنظیموں کے عہدیدار شریک ہوئے اور ترمیم کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں