الیکشن بل 2017 سپریم کورٹ میں‌ چیلنج کردیا گیا

اسلام آباد: نااہل شخص کو پارٹی صدر بنانے کا قانون سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ الیکشن بل دوہزارہ سترہ کی منظوری کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔ درخواست معروف قانون دان ذوالفقار بھٹہ نے جمع کرائی۔ درخواست آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی کی دفعہ تین کے تحت دائر کی گئی ہے۔ عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیا گیا شخص بل کے تحت پارٹی صدارت کے لئے اہل قرار پائے گا۔ پارلیمنٹ کا منظور کردہ بل آئین کی روح سے متصادم ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت پارٹی صدر کسی ممبر پارلیمنٹ کی اہم امور پر قانون سازی کو کنٹرول تا ہے۔اگر ان اہم امور پر کوئی ممبر پارلیمنٹ پارٹی صدر کی مرضی کے خلاف ووٹ دے تو اس کا کیس الیکشن کمیشن کو نااہلی کے لئے بھجوادیا جاتا ہے۔

درخواست کے مطابق آئین کا آرٹیکل تین استحصال سے روکتا ہے اس قانون میں ترمیم کے تحت نااہل شخص اہل شخص کو اسی مرضی کے خلاف ووٹ دینے سے منع کرسکتا ہے۔درخواست میں عدالت عظمٰی سے استدعا کی گئی ہے کہ آرٹیکل پانچ ملکی وفاداری سے متعلق ہے۔ موجودہ قانون سازی کو آئین کے بنیادی سٹرکچر سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے اشتیاق چوہدری اس قانون کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر چکے ہیں۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ بھی اسے عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں