آف شور کمپینوں کے بعد آف شور بیویوں‌کا بھی انکشاف

امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں اور فیصلہ سازوں سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کے جنون میں مبتلا عرب ممالک کے سربراہوں کی جانب سے یہودی خواتین کا سہارا لینے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایک اخبار نے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد عرب حکمرانوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے امریکہ میں آف شور بیویاں رکھی ہوئی ہیں جن کے شاہانہ رہن سہن اور قیام و طعام کے اخراجات عرب ممالک کے سرکاری خزانوں سے ادا کئے جاتے ہیں۔ عرب حکمرانوں کی آف شور بیویوں کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اسلامی ممالک کے اخراجات پر پرتعیش زندگی گزارنے والی ان عورتوں کی اکثریت یہودی ہے جو عالمی سطح پر سرگرم مخصوص خفیہ نیٹ ورک سے منسلک رہ کر ان کے اشاروں پر عملدرآمد کرتی ہیں۔

امریکہ میں یہودی لابی کو غیرمعمولی آزادی حاصل ہے جس کے باعث یہودی خواتین کو امریکی حکومتی عہدیداروں سے ملنے جلنے میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آتی جس کے باعث عرب حکمرانوں کیلئے صرف یہودی خواتین ہی کارآمد ثابت ہوتی ہیں لیکن پس پردہ ان خواتین کے امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کے ساتھ خفیہ روابط ہوتے ہیں۔ عرب حکمرانوں کی امریکہ میں یہودی خواتین سے شادیوں کے راز سے پردہ گزشتہ دنوں اس وقت اٹھا جب امریکہ میں مقیم ایک خاتون نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی آف شور بیوی ہونے کا دعویٰ کیا۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر السیسی کی خفیہ بیوی کی دعویدار خاتون کی شناخت گیزل یازجی کے نام سے ہوئی ہے تاہم مذکورہ خاتون اس دعوے کے بعد اچانک منظرعام سے غائب ہو گئی ہیں۔ السیسی کی مبینہ بیوی امریکی ریاست میری لینڈ میں ایک پرتعیش رہائش گاہ میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔ لگژری گاڑیوں میںگھومنے والی اس خاتون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس واشنگٹن اور نیویارک میں بھی پرتعیش رہائشی فلیٹس ہیں جہاں وہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاتی رہتی ہیں۔ عرب حکمرانوں کی زندگی سے متعلقہ خفیہ رپورٹیں شائع کرنے والے عرب میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس خاتون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مصری صدر السیسی کے تعلقات بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خاتون نے اپنی دلکش شخصیت اور ذہانت کے ذریعے صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سے دوستی بنائی ہے اور خود کو ان کی مشیر ظاہر کرتی ہیں۔

ایوانکا کے ساتھ تعلقات کے ذریعے وہ واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ تقریبات میں اہم امریکی شخصیات سے ملاقاتیں کر کے مصری صدر کیلئے لابنگ کرتی رہی ہیں۔ عبدالفتاح السیسی کے رواں سال اپریل میں دورئہ امریکہ اور امریکی صدر سے ملاقات میں ان کی اس آف شور بیوی نے کلیدی کردار اداکیا تھا۔ السیسی کی آف شور بیوی خود کو لبنان کی عیسائی ظاہر کرتی ہیں تاہم تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ حقیقت میں وہ اسرائیلی شہریت یافتہ یہودی ہیں اور عرب گاہکوں کو پھانسنے کیلئے اپنی لبنانی شہریت کو ظاہر کرتی رہتی ہیں۔ عرب میگزین کے مطابق گیزل یازجی السیسی سے قبل بھی عرب زعمائ‘ اہم حکومتی شخصیات اور دولتمند تاجروں کو اپنی سحرانگیز شخصیت اور ذہانت کے دام میں پھانس چکی ہیں اور ان کی آف شور بیوی بن کر ان سے بھاری رقوم بٹور چکی ہیں۔ صرف عرب حکمران ہی نہیں بلکہ وینزویلا کے آنجہانی صدر ہوگوشاویز بھی اس خاتون کے فریب کا شکار ہوئے تھے۔ گیزل یازجی نے ہوگوشاویز کی بیوی بن کر ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی حکومت سے ان کے تعلقات بہتر بنانے میں کردار ادا کرے گی۔

وینزویلا سربراہ نے انہیں بھاری رقوم اور پرکشش مراعات دی تھیں تاہم خاتون نے ان کیلئے کچھ نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق السیسی کی مبینہ آف شور بیوی کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اس خاتون کے خلاف نیویارک کے مونٹگو مری کاﺅنٹی میں دھوکہ دہی کے الزامات کی تحقیقات شروع ہوئیں۔ امریکی باشندوں کی شکایت پر پراسیکیوشن نے اس پراسرار خاتون کے بارے میں تحقیقات شروع کی ہیں۔ السیسی کی مبینہ بیوی پر الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے ماضی میں وینزویلا کی فوج کیلئے وردیاں بھجوانے کے بہانے سے کئی امیر امریکی شہریوں سے رقوم لی ہیں جبکہ امریکی چینل فاکس نیوز کی ایک اینکر خاتون کے امیر والدین کو بھی دھوکہ دے کر ان سے قیمتی تحفے وصول کر چکی ہیں۔ ذرائع ابلاغ پر امریکی شہریوں کو دھوکہ دینے کی خبریں آنے کے بعد امریکی اداروں نے خاتون کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ عرب جریدے کے مطابق اپنے خلاف کارروائی کا خطرہ محسوس کرتے ہی معمہ بننے والی خاتون منظر سے غائب ہو گئی ہیں۔ ادھر لبنانی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے اس خاتون تک رسائی ایک مشکل کام ہے۔ وہ بین الاقوامی سطح پر خفیہ دستاویزات اور جعلی ناموں سے سفر کرنے کی ماہر ہیں اور ان کا سابقہ ریکارڈ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی بہت ہی اہم بین الاقوامی نیٹ ورک کا اہم مہرہ ہے جس کے باعث ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ رپورٹ کے مطابق 90ءکی دہائی سے دھوکہ دہی کے دھندے میں ملوث خاتون کے بارے میں مزید تحقیقات کر کے ان کے دیگر مبینہ عرب شوہروں کے ناموں کو بھی عنقریب سامنے لایا جائے گا۔ دوسری جانب عرب تجزیہ کاروں نے اس معاملے کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عرب سربراہان مملکت اور حکومتی ذمہ داروں کی جانب سے امریکی اداروں سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے ایسی مشکوک خواتین کا سہارا لینا عرب ممالک کے قومی رازوں کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں