قومی اسمبلی میں‌انتخابی اصلاحات بل 2017 منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں انتخابات بل 2017ء کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔ وزیر قانون زاہد حامد نے جب اجلاس میں بل پیش کیا۔ اس موقع پر اپوزیشن نے اس کیخلاف بھرپور احتجاج کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق کے ڈائس کا گھیراؤ کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے زیر صدارت اجلاس میں الیکشن اصلاحات کا بل پیش کیا گیا تو اس موقع پر اپوزیشن کا شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔ اپوزیشن ارکان نے شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے شور شرابا شروع کر دیا۔ اس موقع پر کئی ارکان نے سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کر لیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

اس سے قبل قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا الیکشن بل 2017ء سے شق 203 نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ سے متصادم ہے۔ آئین واضح کہتا ہے کہ جو شخص 62، 63 پر پورا نہیں اترتا، وہ دوبارہ صدر نہیں بن سکتا۔ انہوں نے سپیکر سردار ایاز صادق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اقلیت اور آپ اکثریت میں ہیں، نظر ثانی کی جائے۔ اگر اکثریت کے بل بوتے پر اس شق کو منظور کیا گیا تو ہم اسے عدالتوں میں چیلنج کریں گے۔

اس سے قبل مسلم لیگ ن کے پارٹی آئین میں بھی ترمیم کرکے تبدیلی کردی گئی ہے۔ اور پارٹی آئین کے مطابق بھی نواز شریف سپریم کورٹ سے نااہلی کے باوجود اپنی جماعت کی صدارت کرنے کے اہل ہوگئے ہیں۔ سیاسی حلقوں کی طرف سے اسے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک فرد کیلئے پارٹی اور ملک کا قانون بدل دیا گیا۔ یہ مفاد پرستی کی انتہا ہے۔ بعض تجزیہ کار یہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے انتخابی بل 2017کی منظوری کے بعد سڑکوں پر احتجاج کی کال بھی سامنے آسکتی ہے۔ واضح رہے الیکشن بل کی منظوری کے ساتھ ہی نوازشریف کی بطور پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ یہ بل اس سے قبل سینیٹ سے منظور ہوچکا ہے۔ دونوں ایوان سے منظوری کے بعد بل کو ایوان صدر ارسال کیا جائے گا اور صدر مملکت کے دستخط کے بعد انتخابات بل 2017 قانون بن جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں