نیب ریفرنس: اسحاق ڈار کارروائی اسلام آباد ہائیکورٹ میں‌ چیلنج کردی

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے فرد جرم کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ،درخواست میں احتساب عدالت اور چیئرمین نیب کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست کی ابتدائی سماعت کل ہوگی۔
اسحاق ڈار نے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی، چیف جسٹس انورخان کاسی نے درخواست ڈویژن بنچ میں سماعت کیلئے مقرر کردی، ڈویژن بنچ میں جسٹس اطہرمن اللہ اورجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہیں۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ احتساب عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کیلئے قانونی تقاضے پورے نہیں کئے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب کی جانب سے عبوری ریفرنس داخل کرایا گیا ہے اس لئے حتمی ریفرنس داخل ہونے تک ٹرائل روکا جائے ۔

واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز دائر کئے ہیں اور اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا ریفرنس ہے۔ اس ریفرنس کی بنیاد پر ستائیس ستمبر کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار احتساب عدالت نے فرد جرم عائد کر دی گئی تھی، جبکہ انہوں نے الزامات کی صحت سے انکار کردیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار پر فرد جرم کے الزامات پڑھ کر سنائے ، جن کی صحت سے ملزم نے انکار کردیا ۔ اسحاق ڈار پر فردِ جرم عائد کرنے کے بعد احتساب عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے گواہان کو طلب کررکھا ہے۔ عدالت نے اسحاق ڈار کو اگلی پیشی پر حاضری یقینی بنانے اور 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی کیا تھا۔ اب وزیر خزانہ نے فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں