رینجرز کی انٹری: سب کی چیخیں نکل گئیں

تجزیاتی رپورٹ
احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی پیشی اور عدالت میں ہونے والی سماعت کی روداد اس وقت کہیں سماعت نہیں دے رہی بلکہ سارا سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اس موقع پر رینجرز کی انٹری پر تبصروں سے بھرا پڑا ہے۔ تجزیہ کار، اینکر پرسن، صحافی، بلاگر، سیاسی کارکن اور عام شہری بھی اس پر کھل کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان تبصروں سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اکثریت نے احتساب عدالت کے باہر انٹری سے ایک نئے انداز کے مارشل لا کی بو محسوس کی ہے۔ بعض افراد تو اس پر اتنے کھلے انداز میں تنقید کر رہے ہیں جو نہ صرف ریاستی اداروں، بلکہ پاکستان کیلئے بھی خطرناک صورت حال کی طرف اشارہ دے رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر رینجرز کی انٹری نے جمہوری قوتوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔

چند ایک سینئر تجزیہ کاروں کی رائے جان کر ہی آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس عمل کو کس شدت سے محسوس کیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ میڈ یا اور وزراءکو عدالتی احاطے میں جانے نہ دے کر آئین پاکستان کو رینجرز کے بریگیڈیئر نے اپنے بوٹ کے نیچے مسل ڈالا ہے ،اس کے بعد ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہمیں بتا یا جائے کہ وہ بریگیڈیئر صاحب نے کس کے حکم پر یہ سارا کام کیا ۔

حامد میر نے کہا کہ آج ہر پاکستانی کو ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کرنا چاہیے ،پاکستان کے دشمنوں کے بیانیے کو آج عملی جامہ پہنا کر کچھ لوگوں نے سب کے سامنے پیش کردیا ہے ،دشمنوں کا بیانیہ یہ ہے کہ پاکستان میں ریاست کے اندر ریاست ہے، پاکستان میں ایک قانون نہیں بلکہ دو قانون ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس چیز کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے چیف کمشنر اسلام آباد کے احکامات ماننے سے انکار کیا اور جوڈیشل کمپلیکس کو ٹیک آور کر کے میڈ یا کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔

حامد میر نے کہا کہ 6ستمبر کو جی ایچ کیو میں جو یوم دفاع کی تقریب ہو ئی تھی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ ہم قانونی کی بالا دستی کی جنگ لڑ رہے ہیں ،اگر ایسا ہی ہے تو رینجرز کے وہ بریگیڈیئر جنہوں نے آج جوڈیشل کمپلیکس کو زبردستی ٹیک اوور کیا ،انہو ں نے قانون کی بالا دستی کو خود ہی توڑا ۔انہوں نے کہا کہ اب نواز شریف کا احتساب پیچھے چلا گیا ہے ،اب پاکستان کے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسلام آباد میں کس کا قانون چلتا ہے ،یہاں پر آئین پاکستان چلتا ہے یا کسی ادارے کا بنا یا ہوا اپنا قانون چلتا ہے ۔

سوشل میڈیا پر ممتاز دانشور اور محقق اختر عباس نے بھی اس حوالے سے کھل کا اظہار رائے کیا ۔ اختر عباس نے کہا کہ آج عدالت میں سیکیورٹی کے نام ہر جو تماشا ہوا ہر جمہوری ذہن رکھنے والے کو اس توہین کو محسوس کرنا چاہیے۔ اس بار مارشل لا عدلیہ کے پردے میں قوم کی گردن پر سواری کے ارادے سے لانے کا عملا اظہار ہے سپریم وزیر اعظم نہ بن سکے تو سپریم انتظامیہ۔۔۔۔ اختر عباس نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی اس گیم کو نہیں سمجھے عمران خان صاحب کو سمجھنا چاہئے کہ انہیں استعمال کر کے پھینکا گیا ہے۔ اختر عباس نے سوال اٹھایا کہ پچھلی بار مشرف صاحب چیف ایگزیکٹو بنے تھے اب کے ملک کا فوجی جنرل مینیجر آۓ گا کیا؟

اسلام آباد کے سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ رینجرز کی انٹری نے یاد ماضی تازہ کردی، ماضی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے مشرف گرفتاری کا حکم آیا تو انہیں رینجرز بھگا لے گئی۔ آج احتساب عدالت کے جج کہہ رہے ہیں رینجرز نہیں بلائی مگر رینجرز آگئی۔

سینئر صحافی بلال ڈار نے بھی سوشل میڈیا پر رینجرز کی احتساب عدالت کے باہر وزراء اور میڈیا کو روکنے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ کوئی بتانے کو تیار نہیں کہ رینجرز کس کے حکم پر یہ سب کررہی تھی۔ اسی طرح کے بہت سے سوالات سے سوشل میڈیا پر بھرمار ہوگئی ہے۔ یہ سوالات نہ صرف ریاستی اداروں کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ نواز شریف فیملی کے خلاف احتساب کارروائی کو بھی مشکوک بنا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں