رینجرز کو کس نے بلایا، احتساب عدالت کے جج کا جواب سن کر سب حیران رہ گئے

دو اکتوبرکو سابق وزیراعظم نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے وقت اس وقت ایک تنازع کھڑا ہوگیا جب وزیر داخلہ احسن اقبال کو رینجرز نے جوڈیشل کمپلیکس میں جانے سے روک دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہاں پر موجود رینجرز کے بریگیڈیئر آصف نے ن لیگی رہنما دانیال عزیز کو بتایا وہ عدالتی حکم پر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ لیکن اس کے کچھ ہی دیر بعد میڈیا نمائندوں نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سے ملاقات کی۔ احتساب عدالت کے جج نے جب اپنا موقف بیان کیا تو سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے رینجرز کو آج طلب نہیں کیا، آئندہ سماعت پر میڈیا نمائندوں کو لینے خود دروازے پر آ جاﺅں گا۔ نجی ٹی وی مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سے میڈیا نمائندوں نے غیر رسمی ملاقات کی جس دوران آج پیدا ہونے والی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔

ملاقات کے دوران احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ انہوں نے آج رینجرز کو طلب نہیں کیا، آئندہ سماعت پر میڈیا نمائندوں کو لینے کیلئے وہ خود دروازے پر آ جائیں گے۔

اس حوالے سے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ جب وہ وزیر داخلہ تھے تو تمام ماتحت ادارے ان کے سامنے جوابدہ تھے، ان کے اختیارات سے متعلق بیان درست نہیں ہے۔ انہوں نے ترجمان کے مطابق رانا ثنا اللہ خان کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے جب وہ وزیر داخلہ تھے تو تمام ماتحت ادارے ان کے سامنے جواب دہ تھے ان کے دور میں کسی ذیلی ادارے نے اختیار سے تجاوز نہیں کیا، ان کی عملداری سے متعلق بیان درست نہیں ہے۔

واضح رہے کہ رانا ثنا اللہ خان نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو احتساب عدالت میں داخلے سے روکے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست کا تصور عام آدمی پر واضح ہونا چاہیے، چوہدری نثار علی خان کا بھی اختیار احسن اقبال سے زیادہ نہیں تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال کو اوپن کورٹ میں جانے کی اجازت دی جانی چاہیے تھی ،یہ حکم اوپر سے نہیں آیا بلکہ مقامی سطح پر اس کا انتظام کیا گیا ہو گا ،اتنی بات تو ہمیں کرنی چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت اعظمیٰ اور جے آئی ٹی میں انصاف ہوتا نظر نہیں آیا اور اب جو ہو رہا ہے وہ بھی آپ دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اندرنہ جانے دینے پر عدالت کے جج اور مانیٹرنگ جج کو نوٹس لینا چاہیے اور ہمیں امید ہے کہ معزز جج صاحبان نوٹس لیں گے۔احتساب عدالت کے باہر میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے اندر جانے کی کوشش نہیں کی لیکن یہ اوپن کورٹ ہے جہاں وکلا اور میڈ یا سمیت متعلقہ افراد کو جانے دیا جانا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں چھوڑ دیں کہ ہما رے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے ،آج اوپن کورٹ میں میڈ یا اور وکلا کو بھی نہیں جانے دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ملک بھی چلے گا اور ہم اپنی بات بھی کہتے رہیں گے کیونکہ آزاد میڈ یا اور سیاستدانوں کو اپنی بات کہتے رہنا چاہیے

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان جنگ لڑ رہا ہے ،ہمیں اپنی بات بھی کرنی ہے اور اصلاح بھی کرنی ہے لیکن ہم اپنا موقف نہیں بدلیں گے ،باقی لوگوں کو موقف بدلنا ہو گا کیو نکہ ہم صحیح بات کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں ملک میں آئین کی حکمرانی نہیں ہو گی ،وہ کب تک اسے روک سکتے ہیں،بلآخر آئین کی حکمرانی ہی ہو گی ۔احسن اقبال کی جانب سے استعفیٰ دیے جانے کے بیان پر خواجہ آصف نے کہا کہ باہر آنا مسئلے کا حل نہیں ،استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں گے تو بعض طبقوں اور عناصر کی خواہش پور ی ہو جائے گی۔ان کا مزیدکہنا تھا کہ میں اس ساری صورتحال کو لائٹ لے رہا ہوں کیونکہ ہمیں صورتحال کو گرم نہیں کرنا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں