گرفتار کرکے پیش کیا جائے، عدالت کا نواز شریف کے بچوں‌کیلئے سخت حکم

اسلام آباد: احتساب عدالت نے نوازشریف کے بچوں اور داماد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ احتساب عدالت نے نواز شریف کی گزشتہ پیشی پر ان کے بچوں اور داماد کو بھی طلب کر رکھا تھا لیکن ان کی عدم پیشی پر عدالت کی جانب سے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے تھے اور تمام افراد کو آج 2 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔

احتساب عدالت میں نیب ریفرنسز پر میاں نواز شریف کے خلاف کیس سماعت ہوئی لیکن ان پر آج فرد جرم عائد نہ کی جاسکی، سابق وزیراعظم کے خلاف کیس کی مزید سماعت 9 اکتوبر تک کے لئے ملتوی کر دی گئی، جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر سابق وزیراعظم نواز شریف کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ آئندہ سماعت پر سابق وزیراعظم، ان کے بچوں اور داماد پر فرد جرم عائد کئے جانے کا امکان ہے۔

سابق وزیر اعظم کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے، جوڈیشل کمپلیکس میں عام افراد کا داخلہ بند تھا جبکہ ایک ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ وکلاء اور صحافیوں کو بھی موبائل فون احتساب عدالت میں لانے پر پابندی تھی۔ سماعت کے وقت سابق وزیراعظم پریشان دکھائی دے رہے تھے اور پریشانی کے آثار ان کے چہرے پر عیاں تھے.

احتساب عدالت کے روبرو نوازشریف کےبچوں اور داماد کی عدم پیشی پر ان کے وکیل نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کلثوم نواز کی بیماری کی وجہ سے ان کے بچے عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور آئندہ تاریخ پر ضرور پیش ہوں گے۔ عدالت نے وکلا کی یقین دہانی پر بھی ان کے مؤقف سے اتفاق نہ کرتے ہوئے مریم، حسن، حسین اور کیپٹن (ر) صفدر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔

عدالت نے حکم دیا ہےکہ آئندہ پیشی پر تمام افراد کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے میاں نوازشریف پر آج فرد جرم عائد نہیں کی اور کیس کی مزید سماعت آئندہ پیر 9 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔ واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز دائر کیے ہیں، اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں ان پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں