شاہ محمود قریشی نے احسن اقبال کی خوب کلاس لے لی

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو احتساب عدالت کے باہر رینجرز کی طرف سے روکے جانے پر جہاں‌ایک طرف انہیں‌ شرمندگی ہوئی وہیں‌ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس حوالے سے کڑی تنقید کی. پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ احسن اقبال جیسے بے بس وزیر داخلہ کو فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کی جانب سے استعفیٰ کی دھمکی پر رد عمل دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا ’میں حیران پریشان ہوں کہ اسلام آباد میں داعش کے جھنڈے لگ جاتے ہیں اور وزیر داخلہ بے خبر ہیں، عدالت میں جاتے ہیں تو انہیں کوئی اندر نہیں جانے دیتا تو پھر ایسے بے بس وزیر داخلہ کو فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت میں وزیر داخلہ نے سکیورٹی کا نیا انتظام خود کیا ہے تو پھر حکومت دھواں دھار پریس کانفرنس کس کے خلاف کر رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا جو لوگ بلا وجہ عدالت پہنچ جاتے ہیں انہیں احتراز کرنا چاہیے، غیر ضروری لوگوں کو نمبر ٹانگنے کیلئے عدالت نہیں جانا چاہیے سیاست کرنے کیلئے اور بہت سے میدان ہیں۔

واضح رہے کہ جب سابق وزیراعظم نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے وقت وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو عدالت میں‌ جانے سے روک دیا گیا تو اس پر وہ شدید برہم دکھائی دیئے انہوں‌ نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ریاست کے اندر دو ریاستیں نہیں چل سکتیں،شفاف ٹرائل دیکھنا میڈیا اور عام آدمی کا حق ہے ،معاملہ حل نہ ہو اتو استعفیٰ دے دوں گا،میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سابق وزیرا عظم نواز شریف قانون کی حکمرانی کے تقاضوں کے مطابق عدالت میں پیش ہوئے ہیںاور شفاف ٹرائل دیکھنا میڈیا اور عام آدمی کا حق ہے ،احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی احتساب عدالت پیشی کیلئے چیف کمشنر اسلام آباد کی نگرانی میں انتظامات کئے گئے تھے اور میڈیا نمائندگان کو داخل ہونے کیلئے اجازت دی گئی تھی صبح مجھے معلوم ہوا کہ اچانک رینجرز نمودار ہوگئے ہیں اور جوڈیشل کمپلیکس میں پوزیشن سنبھال لی ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ میں بطور وفاقی وزیر داخلہ نوٹس لئے بغیر نہیں رہ سکتا رینجرز نے سول انتظامیہ کی حکم عدولی کی ہے اور اس کی باقاعدہ انکوائری ہو گی اور جس کسی نے یہ کام کیا ہے اس کیخلاف کارروائی کی جائے گی،ان کا کہنا تھا کہ رینجرز کا مقامی کمانڈو روپوش ہو گیا ہے ،میں وفاقی وزیر داخلہ ہوں کٹھ پتلی وزیر داخلہ نہیں بن سکتا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ایک ریاست کے اندر دو ریاستیں نہیں چل سکتیں،معاملہ حل نہ ہوا تو استعفیٰ دے دوں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں