ریاست کےاندر ریاست نہیں چل سکتی، احسن اقبال نے استعفیٰ کی دھمکی دیدی

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایک ریاست کے اندر دو ریاستیں نہیں چل سکتیں،شفاف ٹرائل دیکھنا میڈیا اور عام آدمی کا حق ہے ،معاملہ حل نہ ہو اتو استعفیٰ دے دوں گا،میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سابق وزیرا عظم نواز شریف قانون کی حکمرانی کے تقاضوں کے مطابق عدالت میں پیش ہوئے ہیںاور شفاف ٹرائل دیکھنا میڈیا اور عام آدمی کا حق ہے ،احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی احتساب عدالت پیشی کیلئے چیف کمشنر اسلام آباد کی نگرانی میں انتظامات کئے گئے تھے اور میڈیا نمائندگان کو داخل ہونے کیلئے اجازت دی گئی تھی صبح مجھے معلوم ہوا کہ اچانک رینجرز نمودار ہوگئے ہیں اور جوڈیشل کمپلیکس میں پوزیشن سنبھال لی ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ میں بطور وفاقی وزیر داخلہ نوٹس لئے بغیر نہیں رہ سکتا رینجرز نے سول انتظامیہ کی حکم عدولی کی ہے اور اس کی باقاعدہ انکوائری ہو گی اور جس کسی نے یہ کام کیا ہے اس کیخلاف کارروائی کی جائے گی،ان کا کہنا تھا کہ رینجرز کا مقامی کمانڈو روپوش ہو گیا ہے ،میں وفاقی وزیر داخلہ ہوں کٹھ پتلی وزیر داخلہ نہیں بن سکتا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ایک ریاست کے اندر دو ریاستیں نہیں چل سکتیں،معاملہ حل نہ ہوا تو استعفیٰ دے دوں گا۔

اس سے قبل جب سابق وزیراعظم نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی،وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال ،راجہ ظفرالحق،خواجہ سعد رفیق، طلال چودھری، طارق فضل چودھری ،دانیال عزیز اور مائزہ حمید کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے سے روک دیا گیا ،میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور جوڈیشل کمپلیکس کی سکیورٹی رینجرز نے سنبھال رکھی ہے ۔

احتساب عدالت میں پیشی پر صرف نوازشریف کی گاڑی کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی، رینجرز نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، راجہ ظفر الحق،خواجہ سعد رفیق ، طلال چودھری، طارق فضل چودھری،دانیال عزیز اور مائزہ حمید نیب ریفرنسز کی سماعت کے حوالے سے احتساب عدالت پہنچے تو رینجرز نے انہیں جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

جس پر وفاقی وزیر داخلہ سے رینجرز سے معلوم کیا کہ وزرائ کو اندر کیوں نہیں جانے دیا جا رہا جس پر رینجرز نے جواب دیا کہ حکام کی جانب سے اجازت نہیں،وفاقی وزیر داخلہ نے رینجرز کے مقامی حکام کو طلب کر لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں