حالات اتنے بھی بُرے نہیں! تحریر، محمد اعجاز

آج کا پاکستان دس بیس سال پہلے والا پاکستان نہیں۔آج کا پاکستان زیادہ باشعور، فعال اور متحرک پاکستان ہے۔ پاکستان میںمیڈیا آزاد ہے، عدالتیں خودمختار ہیں، کسی شخص کو حکومت سمیت کسی بھی ادارے یا کسی شخص کیخلاف کوئی مسئلہ ہوتو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔عدالتیں کسی بھی غیر قانونی یا غیر آئینی معاملے پر ازخود نوٹس لیتی ہیں۔ میڈیا حکومت سمیت کسی بھی بااثرشخص کی لغزش

پرفوری حرکت میں آجاتا ہے اور اہل صحافت کو اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوںکی مکمل آزاد ی ہے۔ پاکستان کی سیاسی صورتحال میں قدرے ”گرمی اور سختی“ دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے پاکستان میں” احتساب “ اور محاسبے کے اتنے زیادہ ”ادارے “ کبھی موجود نہ تھے اورجو ادارے موجود تھے وہ فعال نہ تھے۔ اب حکومت کے احتساب کے ”اداروں“ میں اپوزیشن،عوام، میڈیا اور عدالتیں بھی شامل ہے۔ پورے یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ محاسبے اور احتساب کا یہ سلسلہ آنے والے دور میں بھی جاری رہے گا۔ اور جب اس ملک میں کوئی شخص، کوئی ادارہ، کوئی سیاسی جماعت یاکوئی حکومت احتساب سے بالاتر نہیں رہے گی تو بہتری پیدا ہونے لگے گی۔اس وقت ملک میں ابتری کی جو صورتحال نظر آرہی ہے، اس کی ذمہ داری کسی ایک شخص کے کندھوں پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ ان سطور میں میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اس ابتری کا ذمہ دار ہم میں سے ہر شخص ہے۔ عام ووٹر سے لے کر ووٹ لے کر اسمبلی میں جانے والا ہر رکن اس کاذمہ دار ہے۔ماضی میں اگر ٹیچر سے لے کر طالب علم تک، مزدور سے لے کر مل اونر تک، چپڑاسی سے لے کر بای¿یسویں گریڈ کے اعلیٰ افسر تک، پولیس سے لے کر فوج تک، حکومت سے لے کر اپوزیشن تک، قاری سے لے کر ایڈیٹر تک، جج سے لے کر جرنیل تک، سپاہی سے لے کر سیاستدان تک اور عام کارکن سے لے کر لیڈر تک ہم سب نے اپنی اپنی ذمہ داری اور فرائض ایمانداری سے ادا کیے ہوتے تو یقینا آج پاکستان کی صورتحال مختلف ہوتی۔ یقینا آج پاکستان میں بے یقینی کی وہ فضا نہ ہوتی جس نے ہر ذی شعور شخص اور ہر درد مند پاکستانی کو اس خوف میں مبتلا کر رکھا ہے کہ نجانے آنے والے لمحے میں کیا ہوجائے؟ اورجہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ آنے والے دنوں، مہنیوں یا سالوں میں کیا ہوگا تو میرے خیال ہے کہ اسے دو حصوں لینا چاہیے۔ اول یہ کہ کیاہوسکتا ہے اور دوم یہ کہ کیا کیا جاسکتا ہے۔پہلے حصے کے مطابق ، ہونے کو بہت کچھ ہوسکتا ہے اور جو ہمارے واہمے میں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔

ملکی صورتحال میںنظر آنے والی ابتری کی وجوہات سمجھنے کیلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عوام اب پہلے سے سادہ نہیں رہے۔ پاکستانی قوم تجربات اور حوادثِ زمانہ کی بھٹی میں سے گزرنے کے بعدزیادہ باشعور اور سمجھدار ہوتی چلی جارہی ہے۔ اگرسب اس امر کو تسلیم کرلیں تو شاید کوئی بھی ادارہ عوام کو بیوقوف بنانے والا اقدام نہ اٹھائے، اورملکی صورتحال میںواضح بہتری نظر آنا شروع ہوجائے، لیکن صورتحال اس قدر عام فہم ہونے کے باوجود کچھ لوگ عرصہ سے ملکی نظام میں اتھل پتھل کی امیدیں لگائے بیٹھیں ہیں۔ایسے لوگوں کیلئے عرض ہے کہ فی الحال ملکی نظام اور نظام حکومت میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوئی امید نہیںکیونکہ جو لوگ تبدیلی کی تمنا کیے بیٹھے ہیں ان کے پاس موجودہ نظام اور حکومت کا کوئی متبادل نہیں۔دنیا کی واحد اسلامی جوہری قوت اور جغرافیائی طور پر سٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہونے کی وجہ سے بھی پاکستان پر عالمی اور علاقائی تبدیلیاں بڑی تیزی سے اثرانداز ہوتی ہیں۔پاکستان کی زیادہ تر حکومتیں انہی عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں تبدیل ہوئیں۔ فوری طور پر عالمی اور علاقائی منظرنامے میں ایسی کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی، جو پاکستان پر اثرانداز ہو اور تبدیلی کا پیش خیمہ بنے۔ ایک تبدیلی فوج لایا کرتی ہے لیکن فوج اس وقت دہشت گردی کیخلاف بہت سے بکھیڑوں میں الجھی ہوئی ہے۔

فوج کیلئے ان بکھیڑوں سے نکل کر کسی قسم کا ایڈوینچرکرنا ممکن نہیں ہے۔ فوج کی موجودہ قیادت نے پاک فوج کا امیج اور مورال بحال کرنے اور اسے پیشہ ورانہ فرائض کی بجا آواری اور قوم کی امیدوں پر پورا اتارنے کیلئے بہت محنت کی ہے۔یہی وجہ ہے فوج انیس سو اٹھاون، انیس سواڑسٹھ، انیس سو ستتر، یا انیس سو ننانوے جیسے کسی اقدام کے ذریعے اپنی اس محنت کو غارت نہیں کرسکتی۔تبدیلی کا ایک دوسراطریقہ ”ان ہاو¿س“ تبدیلی ہے۔پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کے ارکان کی تعداد کو مدنظر رکھا جائے تو یہ طریقہ بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ ایک راستہ وسط مدتی انتخاب کا ہے، لیکن حال ہی میں مانسہرہ اور ہارون آبادمیں ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج نے جو اشارے دیے ہیں ان کے مطابق آئندہ عام انتخابات میںبھی کسی جماعت کیلئے انیس سوستر یاانیس سو ستانوے والی” لینڈسلائیڈ“ فتح حاصل کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ایک عام خیال یہ ہے کہ اگلے عام انتخابات میں بھی مخلوط سیٹ اپ ہی بنے گا۔ اگر آئندہ بھی اسی قسم کا سیٹ اپ بننا ہے تو پھر وسط مدتی انتخابات کی کیا ضرورت ہے؟؟؟؟ دوسری جانب ملکی نظام چلانے میں جتنی بھی قوتیں کارفرماں ہوتی ہیں، وہ سب موجودہ سسٹم کو قائم رکھنے پر متفق ہیں۔لہٰذاان حالات میں حکومت یا سیٹ اپ کی تبدیلی کی افواہ تو اڑائی جاسکتی، لیکن ان افواہوںکے حقیقت کے روپ میں دیکھنے کیلئے فی الحال صرف خوابوں کا سہارہ ہی لیا جاسکتا ہے۔ چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کی عادت بھی ٹھیک سہی ، لیکن سیاق وسباق کے ساتھ حالات کا تجزیہ کرنے کی روایت پر بھی تھوڑا بہت عمل کیا جانا چاہیے!

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ملک بہت سے گھمبیر مسائل سے دوچار ہے۔ مہنگائی کا طوفان بدتمیزی اپنی وحشت کاریاںمچا رہا ہے، بے روزگاری کے سیلاب کی تباہ کاریاں رکنے میں نہیں آرہیں، لاقانونیت کا عفریت ہر جانب اپنی پنجے گاڑے ہوئے ہے، بدامنی کا ناگ ڈنگ پہ ڈنگ مارے چلا جارہا ہے، اوربے یقینی کا زہرہرشخص کی رگوں میں سرایت کرتا چلا جارہا ہے۔ لیکن اس کا علاج حکومت کی تبدیلی میں نہیں ، بلکہ نظام کی تبدیلی میں ہے۔ظلم کا نظام برقرار رکھ کر آپ لاکھ حکومتیں تبدیل کرلیں، ان مسائل سے نجات ممکن نہیں ہوگی۔نظام بدلے گاتو بہتری پیدا ہوگی۔ نظام نہیں بدلے گا تو کچھ بھی نہیں بدلے گا۔اس نظام کو بدلنے کیلئے قومی سطح پر اتحاد، اتفاق اور مصالحت انتہائی ضروری ہے۔ جب کوئی معاشرہ کئی دہائیوں تک عالمی استعمار کی نوآبادی رہتا ہے تو اس معاشرے میں بہت سی خرابیاں اور قباحتیں جنم لے لیتی ہیں۔ہم نے تریسٹھ برس پہلے آزادی تو حاصل کرلی لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم ابھی تک استعمار کی پیداکردہ ان خرابیوں، قباحتوں اور خرافات سے چھٹکارہ نہیں پاسکے۔ وہ خرابیاں، سقم، اور قباحتیں ہمارے آئین اور قانون کے اندر بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔

آئین اور قانون میں موجود یہی خرابیاں اور قباحتیںایک جانب ظلم پر مبنی نظام کو پروان چڑھاتی ہیںتو دوسری جانب حکمرانوں کے اندر جبر اور مطلق العنانیت کے رویوں کوجنم دینے کا سبب بنتے ہیں۔جن ممالک میں آئین میں خرابیاں، سقم اور خرافات باقی رہتی ہیں اور قانون لولا لنگڑا رہتا ہے، ان ممالک میں ہر موسم حبس کا موسم محسوس ہوتا ہے اور عوام لُو کے تھپیڑوں سے بھی تبدیلی کی امید لگابیٹھتے ہیں۔ ہمارا ملک بھی انہی ممالک میںشامل ہے اور ہم بھی انہی لوگوںمیں شامل ہیں جو جہنم کو جنت بنانے کی بجائے دوزخ میں ایئرکنڈیشنرلگانے کو زیادہ موزوں اور آسان سمجھتے ہیں۔ہم بھی کیا عجب لوگ ہیں کہ بادِ صرصر سے خُنک جھونکوں کی امید باندھ لیتے ہیں۔جناب عالی!! تبدیلی چاہیے تو نظام بدلنے کی سوچیے، حکومتوں کے پیچھے لٹھ لے کر پڑنے سے کیا فائدہ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں