امریکی ڈرون حملے پر حکومت نے مذمت نہیں کی ، چوہدری نثار

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی چودھری نثار نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے اس ایوان اور اس سے پہلے ایوان کا موقف بہت واضح رہا ہے اور اگر ریکارڈ نکالیں ،تو سینیٹ کے ایوان کی قرار داد واضح ہے کہ ڈرون حملے نا قابل قبول ہیں ،یہ پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے خلاف ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کئی دفعہ ڈرون حملے کے خلاف فعال اقدام کیا اور کئی دفعہ صرف بیان ضرور آگیا ،مگر میرے لیے یہ حیران کن امر تھا کہ 15تاریخ کو ڈرون حملہ ہوا ،حکومت پاکستان کی طرف سے روایتی مذمت بھی نہیں گئی ،شائد یہ معاملہ نظر انداز ہو گیا ہو ۔چوہدری نثار نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویش اس بات پر ہوئی ہے جس دن ڈرون حملہ ہوا اس سے دوسرے دن وزیر اعظم پاکستان امریکہ کے سفیرسے ملے ،ہماری روایت رہی ہے کہ ہم مذمت بھی کرتے ہیں اور نا خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن جب میں نے وزیر اعظم اور امریکی سفیر کی ملاقات سے متعلق پوچھا تو بتا یا گیا کہ یہ ایک خوش اخلاق ملاقات تھی ،ڈرون حملے پر مذمت نہیں آئی ،امریکہ کو خو ش اخلاقی دکھانے کی ضرور ت نہیں تھی ہمیں ،نا خوشگوار موڈ کا اظہار کرنا چاہیے تھا ۔چودھری نثار نے کہا کہ اگر وزیر اعظم یہاں ہوتے تو میں ان کے سامنے یہ مسئلہ اٹھاتا اسمبلی میں نہیں بولتا ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات ایوان کی توجہ میں اس لیے لے کر آیا ہوں کہ واضح قرار داد کے باوجود اگر کوئی حملہ ہوتا ہے تو پاکستان کی آواز واضح طور پر اٹھنی چاہیے ۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں ہمارے دوست کم ہیں اور اگر دشمن نہیں تو کم از کم نکتہ چیں بہت زیادہ ہیں ،اس ماحول میں مغرب کی ایک انتہائی اہم آواز کی طرف سے پاکستان کے موقف کی تائید اور تعریف کرنا ہمارے لیے اہم ہے ،جیرمی کوربن نے دنیا پر زور دیا ہے کہ پاکستان کی عزت کرو ،پاکستان نے بہت قربانیاں دیں ،جب ان سے پوچھا گیا پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو کارروائی کی اس سے مطمئن ہیں تو جیرمی کوربن نے کہا کہ یہ صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں سب کی ذمہ داری ہے ۔چودھری نثار نے کہا کہ اس ایوان کی جانب سے سپیکر جیرمی کوربن کو خط لکھیں اور بیان پر شکریہ ادا کریں ۔
چین میں ہونے والی برکس میٹنگ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین میں ہونے والی برکس میٹنگ میں پاکستان کے خلاف بھی قرار داد متفقہ طور پر منظور ہوئی ،اس قرارداد میں بہت سی ایسی جماعتوں اور گروپس کے نا م ہیں جو پاکستان بیسڈ ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی میٹنگز اچانک نہیں ہو جاتیں ،یہ سالانہ میٹنگ ہے ،آخری میٹنگ بھارت میں ہوئی جہاں مودی سرکار نے ایڑی چوٹی کا زور لگا یا اسی قسم کی قرار داد پاس کرانے میں ،وہ پاس نہیں کرا سکے لیکن ٹھیک ایک سال بعد میزبان ملک چین میں وہ ہی قرار داد متفقہ طور پر منظور ہو گئی ۔چودھری نثار نے کہا کہ کون ذمہ دار تھے جو ہمار ی حکومت کو اس حوالے سے اطلاع دیتے ،خواہ وہ چین میں ہمار ے سفارتکار تھے یافارن آفس میں ایسے لوگ جو برکس کی پیروی کر رہے ہیں،کیا ان لوگوں نے فالو نہیں کیا کہ بھارت اس حوالے سے کام کر رہا ہے اور چین میں میٹنگ کے دوران یہ قرار داد منظور ہونے کا خطرہ ہے ،ان لوگوں نے چین ،ساوتھ افریقہ ،روس ،برازیل سے رابطہ اور ہوم ورک کیوں نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر دشمن ملک کامیاب ہو گیا تو ہمارے سفارتکار کس مرض کی دوا ہیں کہ وہ پاکستان کے مفاد کا تحفظ نہیں کر سکتے ،میری درخواست ہے کہ ذمہ داران سے جواب طلبی ہونی چاہیے ۔چودھری نثار نے کہا کہ اس بات کا کوئی جواز نہیں ہے ،ہمارے ایسے دوست ملک میں برکس کانفرنس ہوئی جو ہر چیز ہمارے ساتھ شیئر کرتے ہیں لیکن ہم سوئے رہے ،ہمارے سفارتکار سوئے رہے ۔

روہنگیامسلمانوں پر بات کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کے لیے مقام عبرت ہے ،غیر ملکی میڈ یا نے روہنگیا بزرگوں ،بچوں اور خواتین کا جو نقشہ پیش کیا گیا ،وہ انسانیت کے لیے شرم کی بات ہے ،مسلمانوں کو کلہاڑیوں سے مار کر قیمہ بنا دیا گیا ،اس میں برما کی فوج اور حکومت شامل ہے لیکن دنیا خاموش ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ آج ایوان میں برما کے خلاف قرار داد منظور ہور ہی ہے لیکن صرف قرار داد کافی نہیں ،ہمیں او آئی سی بلانے کا مطالبہ کرنا چاہیے جس میں روہنگیا مسلمانوں پر بات ہو ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی فنڈ کھولے جس کی ابتدا ممبر آف پارلیمنٹ کریں ،اپنی تنخواہیں دے کر مدد کریں ،ہم پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر سے امداد اکھٹی کر کے روہنگیا مسلمانوں کو پہنچائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں