چار سال تک وزیرخارجہ نہ ہونے کی وجہ سے نقصان ہوا، جنرل باجوہ

اسلام آباد: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاناما کیس سے فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے، یہ معاملہ عدالتیں چلا رہی ہیں، اندازے لگانے والے اندازے لگاتے رہیں، سابق وزیراعظم سے اچھے تعلقا ت تھے، چار سال تک وزیرخارجہ نہ ہونے سے نقصان ہوا۔انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جمہوری اداروں کی مضبوطی کے حامی ہیں ، سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناؤنہیں، کلثوم نواز کی جیت پر انہوں نے شہبازشریف کو مبارکباد بھی دی، ان کاکہناتھاکہ روایتی عدالتوں سے دہشتگرد چھوٹ جاتے ہیں، اس لیے فوجی عدالتیں بنائیں، ہم نے بہت ڈومو ر کرلیا، ٹرمپ پالیسی کیخلاف قرارداد خوش آئند ہے ۔

تفصیلات کے مطابق آرمی چیف نے قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے ارکان سے گفتگو میں کہا ہے سابق وزیراعظم سے اچھے تعلقات تھے اور موجودہ سے بھی ہیں۔ذرائع نے آرمی چیف کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے این اے 120 میں کلثوم نواز کی جیت پر شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا اور مبارک باد دی۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کی پوزیشن اہم ہوتی ہے کیوں کہ معاملات انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں، چار سال تک وزیر خارجہ نہ ہونے سے نقصان ہوا، وزارت خارجہ کی سربراہی میں خلا نہیں ہونا چاہیے۔ فوجی عدالتیں اس لئے بنانا پڑیں کیوں کہ بڑے بڑے دہشت گرد چھوٹ جاتے ہیں، عدالت نے بینظیر بھٹو قتل کیس میں جیٹ بلیک دہشت گردوں کو چھوڑ دیا ہے۔ذرائع کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے دفاعی بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی بجٹ کل بجٹ کا 18فیصد ہے جبکہ مہنگائی بڑھ چکی ہے، نئے ہتھیار خریدنے میں بہت زیادہ لاگت آتی ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا معاملہ سیاسی سیٹ اپ نے دیکھنا ہے، تاہم فاٹا کے عوام کو صوبائیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے۔ فاٹا ریفارمز ناگزیر ہیں وہاں انتظامی اقدامات جلد کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور افغانستان سے بات چیت کیلیے تیار ہیں لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجنی چاہیے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناؤ نہیں ہے ہمیں مل کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو شکست دینے کے لیے تمام شراکت داروں کو باہمی تعاون کرنا ہوگا جمہوری اداروں کی مضبوطی کا حامی ہوں ، امریکہ کو پتہ چل چکا ہے کہ ہمیں ٹرمپ پالیسی پر اعتراضات ہیں پارلیمنٹ کی قراردادوں کا اس معاملے پر متفقہ پاس ہونا خوش آئند ہے بھارت کا محدود وسائل کے باوجود مقابلہ کر رہے ہیں افغانستان سے کوئی اختلاف نہیں انھیں اپنی طرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں